مغربی ایشیا کی صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا قاعدہ اس مرحلے میں داخل ہؤا ہے کہ امریکہ کے سیاسی اور فوجی دباؤ کے کلاسیکی اوزار اپنی سابقہ افادیت کھو گئے ہیں اور وہ اپنی جگہ ایک ایسی کثیر الاتہاہ تسدید کو دے دی ہے جس کے مرکز میں ایران واقع ہؤا ہے جو ایک آرگنائزر کا کردار ادا کرتا ہے۔

12 اپریل 2026 - 17:34

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مغربی ایشیا کی صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا قاعدہ اس مرحلے میں داخل ہؤا ہے کہ امریکہ کے سیاسی اور فوجی دباؤ کے کلاسیکی اوزار اپنی سابقہ افادیت کھو گئے ہیں اور وہ اپنی جگہ ایک ایسی کثیر الاتہاہ تسدید (Multilayered Deterrence) کو دے دی ہے جس کے مرکز میں ایران واقع ہؤا ہے جو ایک آرگنائزر کا کردار ادا کرتا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات، توانائی کی منڈی اور امریکی اہلکاروں کے موقف سے متعلق خبریں بتاتی ہیں کہ خطے اور دنیا کی سطح پر طاقت کی فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں تبدیلیاں آئی ہیں۔

اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات کے دوران کچھ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اصل اختلاف یورینیم کی افزودگی اور علاقائی سلامتی پر، باقی ہیں اور مذاکرات بلا نتیجہ اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔

اہم نکتہ امریکی اہلکاروں کی باتیں ہیں جو ضمنی طور پر ان مذاکرات کی اصل نوعیت کو عیاں کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر سبکدوش امریکی کرنل ڈینئیل ڈیوس نے اپنے تجزیئے میں واضح کیا تھا کہ اگر امریکیوں کی تجویز آخری آپشن ہو تو یہ مذاکرات نہیں ہیں بلکہ ہمیں ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم کا سامنا ہے۔

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر پیپ (Robert Pape) کہتے ہیں کہ "زیادہ طاقتور ایران یہ مطالبہ کیوں قبول کرے جو جنگ سے پہلے بھی اٹھایا گیا تھا [یعنی جیتنے والا فریق ہتھیار کیوں ڈالے گا]۔"

یہ وہ باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ میدانی پیشرفت کے بعد، طاقت کے موازنے میں تبدیلی آئی ہے۔

کچھ کانگریس اراکین نے اس عمل کے انتظام کی کیفیت پر تنقید کی ہے:

سینیٹر اینڈی کیم (Andy Kim) نے کہا ہے کہ حقیقی سفارت کاری کے لئے طویل محنت، فنی مہارت اور مسلسل مشاورت کی ضرورت ہے اور عشروں کا اختلاف ایک دن میں حل نہيں ہو سکتا۔

ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کا سیاسی ڈھانچے کے اندر بھی دباؤ کی سفارت کاری کی عدم افادیت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے۔

ادھر تیل کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی خبریں ہیں؛ اور کشیدگی کم ہونے کی صورت میں بھی اس صورت حال سے پیدا ہونے والی مہنگائیاں اور عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات مہینوں تک جاری رہیں گے۔ ادھر ڈیزل کی مہنگائی کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے اور یوں کھانے پینے کی اشیاء اور عالمی رسد کی چین پر اثر پڑا ہے اور کم آمدنی والے گھرانوں پر شدید دباؤ آ رہا ہے۔

ان مسائل کی بنیاد آبنائے ہرمز میں جیوپولیٹیکل صورت حال ہے۔ بین الاقوامی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا براہ راست ایرانی انتظام بین الاقوامی توانائی کے قواعد میں ایک ساختی اوزار بن گیا ہے۔ یہ صرف ایک فوجی خطرہ نہیں ہے بلکہ اس کی کارکردگی کو اقتصادی تسدید (Economic Deterrence) کی سطح پر دیکھنا چاہئے؛ یا یوں کہئے کہ اس آبنائے کی پوزیشن میں کسی قسم کی تبدیلی یورپ، امریکہ اور مشرقی ایشیا کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

باب المندب کو ابھی فعال نہیں کیا گیا لیکن وہ بھی ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے جو علاقائی تسدید کے قاعدے سے متصل ہے۔ یہ ایک امکانی قوت ہے جو فعال نہ ہونے کی صورت میں بھی بحیرہ احمر اور نہر سوئز کے راستے پر نفسیاتی اور سیکورٹی دباؤ برقرار رکھتا ہے اور مغربی تجزیوں میں اس کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔

فوجی اور سیکورٹی سطحوں پر بھی امریکی تجزیہ کاروں نے توازن بگڑنے کا اعتراف کیا ہے۔ ڈینئیل ڈیوس نے اپنے ایک تجزیئے میں کہا تھا کہ امریکی فوج پہلے مرحلے میں اپنے مقاصد تک نہیں پہنچ سکا چنانچہ یہ سلسل جاری رہے گا تو چیلنجوں میں اضافہ ہوگا۔ اسی اثناء میں میکس بلومینتھل جیسے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات میں جانے والی امریکی مذاکراتی ٹیم سفارتکاری کے لئے نہیں گئی تھی بلکہ دباؤ ڈالنے کے لئے تھی۔ ان تجزیوں کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کے بارے میں مختلف رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کے فوجی آپشن عملی طور پر محدود ہے۔

تزویراتی سطح پر، اس قاعدے میں چین کا کردار بھی قابل توجہ ہے۔ اقتصادی تجزیوں کے مطابق، چین ایران - امریکہ جنگ کا دائرہ پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ توانائی کے دھارے کا کسی حد تک استحکام چینی معیشت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری طرف سے چین نہیں چاہتا کہ ایران کا توانائی کا اوزار کمزور ہو جائے۔ کیونکہ وہ توانائی کے لئے خلیج فارس پر انحصار کرتا ہے۔ اسی بنا پر چین کا کردار سیاسی اتحاد کے سانچے میں آتا ہے، بحران کے انتظام اور توازن کے تحفظ کے سانچے میں مؤثر  ہے۔ ان واقعات و حقائق کی روشنی میں، خطہ ایک کثیر الاتہاہ تسدید (Multilayered Deterrence) کے مرحلے میں داخل ہؤا ہے؛ جس میں وسیع پیمانے پر جنگ ـ عظیم اخراجات کی وجہ سے ـ قلیل مدت میں ـ ممکن نہیں ہے۔ پائیدار سمجھوتہ بھی تزویراتی دراڑوں کی وجہ سے، قابل دسترس نہیں ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ ایک "نہ جنگ نہ ہی امن" کی صورت حال ہے، جس میں ایران ایک محض رد عمل دکھانے والے کھلاڑی سے بین الاقوامی توانائی اور علاقائی سلامتی کے قواعد منظم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔  

اس صورت حال میں، جو کچھ تشکیل پا رہا ہے وہ صرف ایک دو طرفہ تقابل نہیں بلکہ توانائی اور سلامتی کی عالمی ترتیب کی تشکیل نو ہے، ایسی ترتیب جس میں ہرمز اور باب المندب جیسی تزویراتی آبراہوں اور اقتصادی اور سفارتی اوزاروں نے براہ راست کے روایتی اوزاروں کی جگہ لے لی ہے اور ایران اس ساختی تشکیل نو کے مرکز میں کھڑا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد، مذاکرات کا مقام بدلنے پر غور ہو رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ اگلے مذاکرات بیجنگ یا ماسکو میں ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

تصویری خبر | اگلے مذاکرات، اسلام آباد یا بیجنگ میں: مغربی ایشیا میں جنگ اور سفارتکاری

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha